Yuz Asif -Urdu

یوزِ آصف (حصّہ اول)

عیسیؑ ابن مریم یوزِ آصف نہیں ہیں۔۔۔

قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے بلکہ ایمان ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پر مرزا غلام احمد قادیانی تشریف لائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قادیانی جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوئے ہیں ان کی قبر کشمیر کے اندر محلہ خان یار سری نگر میں موجود ہے۔       

(روحانی خزائن جلد نمبر  14 صفہ4 )

میں آپ کو اس قبر کے بارے میں بتاؤں گا کہ یہ قبر کس بندے کی ہے یہ کون تھا جس کو مرزا غلام قادیانی نے عیسی علیہ السلام کا نام دیا اور بھرپور طریقے سے اس نے کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح اس کو عیسی علیہ السلام کی قبر ثابت کر دیا جائے

جس عقیدہ  اورقبر پہ قادیانی جماعت کی عمارت کھڑی ہے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی ہے اور ان کی جگہ پر مرزا غلام احمد قادیانی تشریف لائے ہیں۔ اس عقیدہ کو ہم نے ان شاء اللہ آج ملیامیٹ کر دینا ہے۔

 . اللہ تعالی قرآن پاک  میں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم  بن باپ پیدا ہوئے ۔ امت مسلمہ کا یہی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے ہیں بلکہ قادیانیوں کا بھی یقیناً یہی عقیدہ ہوگا کہ عیسی علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے ہیں . قرآن مجید کے اندر عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر بہت دفعہ انکی والدہ کے نام کے ساتھ آیا ہے عیسیٰ ابن مریم، مسیہ ابن مریم . قرآن پاک نے  حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کی  پاکیزگی کی بھی گواہی دی۔ بلکہ امہ صدیقہ جیسے لفظ استعمال فرمائے ہیں۔ قرٓان میں تو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام سے سورت مریم بھی ہے ۔ 

مرزا غلام قادیانی کا ایک مرید تھا جو کشمیر میں رہتا تھا اس نے مرزا قادیانی کو ایک خط لکھا جب اس نے وفات مسیح کا عقیدہ پیش کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو اس نے ایک مرزا قادیانی کو خط لکھا اور اس نے اس خط میں یہ بتایا کہ یہاں پہ ایک لمبی سی قبر ہے وہ مسلمانوں کی چھوٹی قبروں کی طرح نہیں یہ بہت لمبی قبر ہے۔ تو لوگ اس کو شہزادہ یوز آسف کے نام سے یاد رکھتے ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں بڑا نیک آدمی تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ بڑا اللہ کا ولی تھا، کوئی ابدال کہتا ہے، کوئی کچھ کہتا ہے۔ مگر تھا اس کا نام شہزادہ یوز اسف۔ تو اس نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ اسے نبی صاحب کی قبر کہتے ہیں مگر زیادہ تر لوگ اسے شہزادہ یوز اسف کے نام سے جانتے ہیں۔  مرزا قادیانی کے لیے تو اچھا ثابت ہوگیا کہ انکو ایک قبر نظر آگئی اس قسم کی انہوں نے اس قبر کو بھرپور طریقے سے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اس خط کے اندر جو باتیں لکھی تھی مرزا نے تبدیل کر دی اور اس قبر کو الہامی قبر کہا کہ مجھے اللہ نے الہام کیا ہے کہ یہ قبر عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ تو مرزا قادیانی کا مرید تھا عبداللہ کشمیری وہ بڑا پریشان ہوا کہ میں نے تو مرزا قادیانی کو یہ باتیں  نہیں لکھی ہیں جو مرزا نے اس خط میں لکھ دی ہیں۔ اور میرے نام سے منسوب کر دی ہیں تو اس نے کہا یہ تو مسیح موعود قُل گڑبڑ لگتی ہے ۔ بہرحال جب اسے یقین ہو گیا کہ یہ مرزا قادیانی صیح مسیح موعود نہیں ہے تو اس عبداللہ کشمیری نے مرزا قادیانی کی بیعت توڑ دی اور اب چونکہ اس کو کوئی ایک مسیح چاہیے تھا ۔ تو اس نے جا کے ایران کے اندر جو بہااول ایرانی تھا مسیح موعود ہونے کا دعویدار اس کی بیعت کرلی ۔  جب اس نے بہااول کی بیت کر لی تو وہاں اس نے ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا اور اس رسالے کے اندر اس نے اپنا اصل خط تحریر کیا اور کہا تمام جو قادیانی احمدی حضرات ہیں یہ میرا اصل خط ہے جو میں نے مرزا قادیانی کو لکھا تھا۔ اب مرزا قادیانی نے جو لیٹر اس کتاب میں لکھا ہے اس سے آپ موازنہ کرلیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ مرزا قادیانی نے میرے نام سے کتنی غلط باتیں منسوب کر دی ہیں۔

مرزا قادیانی نے جو عیسیٰ علیہ السلام کی قبر پیش کی ہےاس کے شبوت میں اپنے ایک مرید عبداللہ کشمیری کے خط کا حوالہ دیا۔ اور  ایک کتاب عین الحیات   کا حوالہ دیا۔

(روحانی خزائن جلد نمبر  14 صفہ 170، 171 رازے حقیقت 18،19

علامہ محمد باقر مجلسی کے شیعوں کے بہت بڑے امام ہیں گزرے ہیں یہ ان کی کتاب ہے روح حیات ۔ اور اس کتاب کے  اردو ترجمہ کا نام عینالحیات  ھے۔

(روح الحیات اُردو ترجمہ عین الحیات مؤلف: علامہ محمد باقر مجلسی)

اس کتاب  عین الحیات میں قصہ بلوہر اور یوز اسف بیان ہے۔ جس کے بارے میں مرزا قادیانی            

روحانی خزائن جلد نمبر  14 صفہ ،170  رازے حقیقت18    

پر لکھتاہے.  یہ قصہ بلوہر اور یوز اسف سچا ہے۔

مرزا کہتا ہے ان میں بہت سے قصے ہیں مگر یہ لغو ہیں بے ہودہ ہیں۔ صرف اس کتاب میں اس قدر سچ ہے چلے ہم باقی قصوں کو چھوڑ دیتے ہیں مرزا قادیانی جس کوسچ کہہ رہا ہے اس کو چیک کر لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کیا مرزا قادیانی نے یہ سچ اپنی  کتابوں میں لکھا یا مرزا قادیانی نے جھوٹ کر کے آگے لکھا ہے قادیانی حضرات برا نہ منائیے گا میں آپ کو دکھانا چاہتا ہوں۔ اچھا آگے لکھاہے کہ صاحبِ کتاب قبول کرتا ہے کہ یہ نبی سیاہ تھا اور شہزادہ تھا جو کشمیر میں آیا۔ اپنے گھر میں کسی بچہ کو بلائے جو تھوڑا سمجھدار ہو اس سے پوچھیں کہ بیٹا شہزادہ کس کو کہتے ہیں؟ اصل میں حقیقت میں شہزادہ کون ہوتا ہے؟ تو اب وہ کہے گا کہ بادشاہ کے بیٹے کو کہتے ہیں شہزادہ اور بادشاہ کی بیٹی کو شہزادی کہتے ہیں یہ تو ہر بندے کو پتا ہے یقیناً مرزا قادیانی کو بھی پتہ ہونا چاہئے تھا کہ شہزادہ کیا ہوتا ہے

اس قصہ کو میں مختصر بیان کر رہا ہوں۔  لکھا ہوا ہے کہ ابن بابویہ رحمتہ علیہ نے محمد بن زکریا سے روایت کی ہے کہ مملکت ہندوستان میں ایک بادشاہ بڑی شان و شوکت والا رہتا تھا۔ وہ نفس کا متولی دلدادہ تھا دنیا کی ہر برائی اس میں موجود تھی وہ بتوں کو پوجتا تھا وہ اپنی مرضی سے لوگوں کے ساتھ جو دل کرتا سلوک کرتا عیاش پرست تھا بدکاریوں میں مست تھا۔ جو اس کی تعریف کرتا تھا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا۔ مگر کیی سال تاک فرزندے نرینہ نہ  رکھتا تھا۔ یعنی اس کے ہاں کوئی لڑکا نہیں تھا ۔ مگر کیی سال بعد بادشاہ ہاں بیٹا پیدا ہو گیا۔ اسے یقین تھا کہ یہ جو انعام مجھے ملا ہے یہ ان بتوں کی وجہ سے ملا ہے۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کا نام یوز اصف رکھا۔ نجومیوں کو بلایا جو اپنے فن میں ماہر تھے اور اس میں بہت سے لوگوں نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ بچہ بڑا اچھا ہوگا شرافت عظمت والا ہوگا بہت سے لوگوں کو یہ اچھائی کی طرف لے کے آئے گا۔  بچہ نہ صرف دنیا میں اشرف و افضل ہوگا بلکہ آخرت میں بھی  دینداروں کا پیشوا ہوگا۔ پھر حکیم بلوہر نامی بندہ شہزادے کو ملتا ہے۔ جو بڑا زاہد، عابد نیک آدمی ہوتا ہے۔ شہزادہ اس سے کچھ دین کی باتیں سیکھتا ہے۔  اب یہ بلوہر اس کو دین سکھاتا ہے۔ 20 سے 25 صفحات جو ہیں یہ اسی بات پہ ہیں کہ شہزادہ اس سے دین سیکھا رہا ہے۔

یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ یوز اسف کا والد موجود ہے۔ ناظرین وسامعین کرام یہ یوز اصف نامی بچہ بڑا ہو کر امام بن جائے ،ولی بن جائے ،کتب بن جائے، ابدال بن جائے، اللہ کا نبی رسول بن جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مگر  یہ عیسیٰ ابن مریم نہیں ہو سکتا۔ قرآن کہتا ہے عیسی ابن مریم  کے والد نہیں ہے۔ اس کے باوجود مرزا قادیانی ایک ایسے بندے کو  جس کا والد موجود ہے اس کو ابن مریم بنا رہا ہے۔ تو یہ قرآن کی خلاف ورزی ہے۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتےہیں کہ میں نے عیسی ابن مریم کو تعلیم دی ہے ۔

(اور وہ اسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا اور تورات اور انجیل کی۔ سورۃ آلعمران کی آیت نمبر49

 (جب میں نے تجھے کتاب سیکھائی اور حکمت بھی اور تورات بھی اور انجیل بھی۔ سورۃ مائدہ آیت نمبر 111

بادشاہ کا بیٹا ہے یوزاسف جس کو مرزا  عیسی  بنا کر پیش کر رہے ہیں  صاف لکھا ہے وہ کہ حکیم بلوہر سے دین سیکھا رہا ہے جبکہ اللہ تعالی قرآن میں فرماتےہیں کہ میں نے عیسی ابن مریم کو تعلیم دی ہے۔ تو یہ قرآن کے خلاف ورزی ہے۔

روحانی خزائن جلد نمبر  14 صفہ4 

ہے مرزا قادیانی نے کیا لکھا ہے  عیسی صلیب  سے اترا  اور کشمیر  کے  سفر  پر نکلے۔ رازے حقیقت کے اندر مرزا نے تفصیل بھی بیان کی۔

  قرآن میں اللہ تعالی عیسی کے مطلعق فرماتے ہیں :

(نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا سورۃ نساُ کی آیت نمبر ہے 159

مرزا کہتا ہے عیسی صلیب  سے اترے ۔ قرآن کہتا ہے سولی پر چڑھایا ہی نہیں۔ مرزا نے قرآن کے خلاف لکھا کیا اور یہ قرآن کی خلاف ورزی ہے۔

روحانی خزائن جلد نمبر 17   پیج نمبر100

ہے مرزا قادیانی نے کیا لکھا ہے۔

 (کتاب سوانح یوز ٓاصف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز اسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھی )

جس کتاب کا مرزا قادیانی نے کہا۔ اس کتاب کو پوری پڑھ لیجئے اس کے اندر کسی قسم کی انجیل کا کوئی ذکر نہیں۔ مرزا قادیانی کیا کہتا ہے کہ ایک نبی یوز اسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا۔ اس پوری کتاب عینالحیات میں یوز اصف کے لیے انجیل کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔

جس مرزا صاحب نے یوز اصف کو عیسیٰ ابن مریم بنا دیا زبردستی اور آپ نے اس بات پر ایمان بھی رکھ لیا ہے کہ جو بادشاہ کا بیٹا ہے یوزاسف وہ عیسی ابن مریم ہی ہے۔ تو پھر آپ قرآن پاک کی ان آیت کے خلاف ہوگئے ہیں۔

احمدیوں سے سوال ہے کہ جب مرزا قادیانی نے یہ کتاب دیکھی اور پڑھی تو کیا اس نےیہ نہیں پڑھا ہوگا کہ اس بچے یوز اصف کا والد موجود ہے اور بادشاہ ہے اسی لئے شہزادہ کہلا رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے بہت دفعہ اپنی کتابوں میں شہزادہ لکھا ہوا ہے۔ مگر اس کے باوجود مرزا قادیانی کہتا ہے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔

مرزا قادیانی اپنی ایک دو کتابوں کو چھوڑ کر باقی تمام کتابوں میں شہزاد یوز اصف کا نام لیتا ہے مگر کسی کتاب کے اندر یہ نہیں بتایا  یہ بادشاہ کا بیٹا ہے۔ شہزادہ یوصف،  شہزادہ نبی کہتے رہے ۔ اس لیے کہ یہ بات میں بتاؤں گا کہ یہ بادشاہ کا بیٹا ہے تو پھر یہ قبر کوئی مانے گا ہی نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ہے کیونکہ وہ تو بن باپ پیدا ہوئے ہیں

 اب  قادیانی اگر اس قبر کو مانتے ہیں کہ یہ شہزادہ یوز آصف عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے ،پھر ان کو ماننا پڑے گا کہ اس کا والد بھی ہے پھر وہ قرآن کے عقیدے پہ نا چلیں۔ مرزا قادیانی کے عقیدہ پہ چلیں تو ماننا پڑے گا اس کا والد موجود ہے جو بادشاہ تھا۔ اگر

مرزا صاحب نے یہ باتیں آپ سے کیوں چھپائی ہیں جو اللہ کے سچے بندے ہوتے ہیں وہ باتیں چھپاتے نہیں ہیں وہ دین کی باتیں جو ہیں حق سچ لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی  نہ صرف  چھپا رہا ہے بلکہ اس کو من گھڑت کر کے بیان کار رہا ہے۔ اور جو اس کو زبردستی عیسیٰ ابن مریم بنائے اور جو اس قبر پہ عقیدہ رکھے کہ یہ سچے نبی عیسیٰ علیہ السلام کی ہے تو وہ اپنا انجام خود دیکھ لے کہ اللہ اس کا کیا حال کریں گے

کیا یہ ساری باتیں مرزا قادیانی نے نہیں پڑھیں ہونگی یقینا پڑھیں ہونگی مگر اس کے باوجود ان بیچارے قادیانیوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ کیا ان کے مربیان نے، کیا ان کے بڑوں نے یہ باتیں نہیں پڑھیں یقیناً پڑھیں ۔ مگر  پھر بھی ان کو نہیں بتایا۔ ان کو تو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے میں ان کو یہ باتیں بتا رہا ہوں کہ دیکھو تمہارے بڑے تم سے کیسے کیسے دھوکہ دہی کرتے ہیں۔ کیسے کیسے جھوٹ بولے ہیں تمہارے ساتھ صرف اپنے آپ کو سچا کرنے کے لئے اور آپ لوگ ہو کہ آپ تحقیق بھی نہیں کرتے۔

یوزِ اصف (حصّہ دوم)

عیسیؑ ابن مریم یوزِ اصف نہیں ہیں۔۔۔

میں نے قادیانی حضرات کو حقائق    دکھانے کی    غرض  سے  یوزِ اصف حصہ اول پیش کیا  اور الحمدُ للہ   بہت سے قادیانی حضرات نے  مجھ سے رابطہ کیا   ۔ وہ  اس  یوزِ اصف  نامی  قبر کی تصدیق کرنا  چاہتے  ہیں اور مجھ سے  حوالا  جات مانگ رہے ہیں۔ اس لیے مذید تفصیل حوالاجات کے ساتھ بیان کر رہا ہوں۔ انشااللہ قادیانی حضرات میری پوری کوشش ہے کہ میں آپ کو غلط عقیدے سے نکال سکو ں۔ اُمید کرتا ہوں آپ اس پر غور  کریں گے۔

یہ جو  یوزِاصف نامی  شہزادے کی  قبرہے جو ایک  بادشاہ کا بیٹا تھا اس قبر  کے متعلق مزا صاحب نے اپنی کتا ب 

  (روحانی خز ا ئن  جلد نمبر 14 صفحہ نمبر70 1)

میں  دو  کتابوں کا ذکر  کیا ہے۔پہلی کتاب کا نام  ” عین  الحٰیوۃ” ہے دوسری  کتاب جس کا نام   “اکمال الدین    اتمام  النعمت” ہے۔ “ عین  الحٰیوۃ”  میں نےآپ کے سامنے  پیش کردی ہے۔

وہ دوسری  کتاب جس کا نام   “اکمال الدین    اتمام  النعمت” ہے، یہ  پیش کرنے جا  رہا ہوں  ۔ قادیانی  حضرات  اس کتاب کا ذکر مرزا  نے اپنی ایک کتاب میں ہی نہیں  کیا بلکہ اپنی ایک اور کتاب   .

روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸  صفحہ نمبر   361

میں بھی کیا ہے۔  صفحہ نمبر  361 پر   لفظ ہے ”  اکمال الدین”  یہ کتب عربی میں ہے اور اس کتاب کا ترجمہ  قادیانی جماعت نے جیس کتاب میں کیا ہے  اُس کتاب کا نام  “الھدیٰ” ہے  اس کا صفحہ نمبر”  173″ ہے   اس میں مرزا قادیانی لکھتا ہے

” کہ وہ بنی اسرائیل کےایک نبی کی قبر ہے جو شہزادہ تھا ۔اور اس کا نام یوزِ اصف تھا۔ اس کا  اصل نام  عیسیٰ صاحب تھا   اور وہ نبیوں میں سے تھا ۔  اس سے اگلے صفحے میں  قادیانی صاحب کہتے ہیں”

ان میں سے ایک کتاب کا  نام  “اکمال الدین “ہے۔  آگے کہتے ہیں مزید براں   یوزِ اصف  نے اپنی کتا ب کا نام انجیل رکھا (  استغفراللہ )۔

پوری قادیانی جما عت کے نزدیک یوزِ اصف عیسیؑ ہی ہیں ۔ قادیانی حضرات  کہتے ہیں ہم سےاگر کسی نے بحث کرنی ہےتو  قرآن پر کرے تو اس لئے ہم اس بات کو  قرآن کے تناظر میں دیکھ لیتے ہیں  مرزا  طاہر احمد کےلکھے ہوئے 

قرآن  کے” صفحہ نمبر  ۹۰ سورۃآلِ عمرآن   آیت نمبر ۴۹” کا ترجمہ  ملاحظہ کریں ” اور وہ   اُ سے  کتاب اور حکمت کی تعلیم  دے گا  اور تورات اور انجیل کی

اس سے   ایک آیت پیچھے دیکھیں تو اللہ پاک  خود اس بات کی  گواہی دے رہے ہیں    ،  ترجمہ

” تو اُس نے  کہا اے میرے رب  میرے کیسے بیٹا ہو گا جبکہ  مجھے  کسی بشر نے نہیں چھوا”

یعنی   عیسی ؑ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں  یہ قادیانی جماعت کا بھی عقیدہ ہے  اور تمام مسلمانوں کا بھی عقیدہ ہے ۔  اس کے برعکس یوزِ اصف  بن باپ پیدا  نہیں ہوا  اس کا باپ بادشاہ تھا۔ اسی لیےتو وہ شہزادہ کہلاتا ہے مرزا قادیانی نے  دو کتابوں کا ذکر کیا اور دونوں   میں یہ قصہ موجود ہے کہ وہ بادشاہ کا  بیٹاتھا۔

قرآن کہتا  ہے کہ  “عیسیٰ ؑ  بن باپ کے  پیدا ہوئے” اورعیسیؑ کی کتاب کا نام  انجیل ہے ۔قادیانی حضرات اس بات کا  فیصلہ آپ پر   ہے کہ آپ   قرآن کے ساتھ کھڑے ہیں  یا  مرزا قادیانی کے ساتھ کھڑے ہیں، مرزا قادیانی کے نزدیک    یوزِ اصف  جو بادشاہ کا بیٹا ہے وہ  عیسیؑ ہیں اور  ہمارے نزدیک     جو حضرت مریم ؑ کے بیٹے ہیں وہ  عیسیؑ ہیں، قرآن  میں حضرت   مریم ؑ کے ساتھ حضرت عیسیؑ کا ذکر  کیا  ہے اور اکمال الدین میں  یوزِ اصف کا ذکر اپنے باپ بادشاہ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ تو فیصلہ آپ نے کرنا ہے   میرا کام تو آپ کو حقائق دکھانا ہے اصلیت کوسامنے لانا ہے۔

قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دینا چاہوں گا

۔”سورۃ مائدہ  آیت نمبر  ۱۱۱”  میں  اللہ  پاک  فرماتے ہیں   “جب  میں نے تجھے کتاب  سکھائی اور حکمت بھی اور  تورات بھی اور انجیل بھی ” ۔

اگرآپ اس آیت سے  پچھلی آیت کا ترجمہ دیکھیں تو وہاں لکھا ہے” جب اللہ نے کہا اے عیسیؑ ابنِ مریم!” یہاں اللہ  نے عیسی ابنِ مریم کہا ہے(  توبہ  نعوذبااللہ)   یوزِ  اصف ابنِ بادشاہ نہیں کہا ۔یہاں صاف صاف ظاہر ہے  کہ قرآن حضرت عیسیٰؑ کو اُنکی والدہ  حضرت مریم کے نام سے یاد کر رہا ہے یعنی عیسیٰ ابنِ مریم  ، مسیح ابنِ مریم،    مگرمرزا قادیانی کہتا ہے کہ یوزِ اصف بادشاہ کا بیٹا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو  قرآن  میں یوزِ اصف کا ذکر ہے اور نہ ہی حدیث پاک میں کوئی ذکر ہے۔  اگرہم صرف درج بالا آیت کو سامنے رکھ کر مرزا قادیانی کےعقیدے کو دیکھیں   تو ثابت ہوتا ہے کہ  مرزا نے حضرت عیسیؑ،حضرت مریم ؑ ،   قرآن  پاک اور اللہ پاک کی بہت زیادہ توہین کی ہے۔

اب آگے   ایک اور آیت کا حوالہ دیکھیں

“جب  اللہ نے کہا  اے عیسیٰؑ ابنِ مریم ! اپنے اوپر میری نعمت کو یاد کر اور اپنی  والدہ پر جب میں نے  روحُ القدس سے  تیری تائید کی۔تو تو لوگوں سے پنگھوڑے میں اور ادھیڑ عمر میں بھی  باتیں کیا کرتا تھا اور وہ وقت یاد کر جب میں نے تجھے کتاب سیکھائی ، حکمت دی اور پھر تو  مٹی کے پرندے بناتا تھا   خُدا کے اِذن سے  اُس میں   پھونک مارتا تھا  وہ اُڑنے لگتے تھے  اور پھر تو اندھوں کو،  برص والوں  کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا  تو پھر مردوں کو میرے حکم سے زندہ کرتا تھا “

یہ سارے واقعات اللہ تعالیٰ نے   قرآن میں  عیسیٰ ؑ کے ساتھ منسوب کئے ہیں اور عیسیٰؑ کون ہیں مریم ؑؑ کے بیٹے ہیں  جن کے بارے میں قرآن   گواہی دیتا ہے  کہ وہ  وہ اُم صدیقہ ہیں  جب یہودیوں نے   الزام لگایا تو  قرآن نے گواہی  دی  کہ  حضرت مریم ؑ صدیقہ ہیں ۔

خاص طور پر قادیانی حضرات  اگر آپ  یوزِ اصف کو  عیسیٰ ابنِ مریم  بناتے ہیں  اور آپ کا ایمان ہے کہ یوزِ اصف والی قبر  عیسیٰؑ کی ہے  تو استغفراللہ مجھے  تو سوچ کر  بھی گھن آتی ہے کتنی سخت گستاخی کی گئی ہےکہ ایک  ایسے بندے کو جو شرابی کبابی، زانی،   بتوں کو پوجنے والا اور  بہت سی بُرائیاں اس میں ہیں  نعوذ بااللہ ، نعوذ بااللہ،  نعوذ بااللہ   ، مرزا نے اُس بد قماش شخص کو    اُس  پاکباز  عورت کا شوہر بنا ڈالا جس عورت کی گواہی قرآن نے دی ہے۔   یعنی    یوزِ اصف کا باپ جو بادشاہ ہے  ۔ اگر آپ مانتے ہیں کہ وہ قبر عیسیٰؑ کی ہے پھر وہ شرابی، زانی بادشاہ جو  ہے   وہ حضرت مریم کا شوہر  بن جاتا ہے نعوذ االلہ پھر وہ  نعوذ االلہ، نعوذ االلہ،  اللہ مجھے معاف کر دے اور اگر نہیں مانتے تو  پھر کوئی مسلہ نہیں ہے۔

آگے مرزا قادیانی  اس کتاب میں کہتا ہے ” اور  صاحبِ انجیل صرف عیسیٰ ہی تھے”  قادیانی حضرات اب ذرا  غور فرمائیے گا  میں بڑے دُکھ کے ساتھ یہ باتیں بیان کر رہا ہوں  کیونکہ اس میں   قرآن کی توہین ،  عیسی ٰؑ کی تو ہین ، حضرت مریم کی توہین اور اللہ تعالیٰ کی توہین شامل ہے۔مرزا قادیانی مزید کہتا ہے کہ

” اُس نے اپنی کتاب کا نام انجیل  رکھا ” 

”  ان دونوں کتابوں میں جن کا حوالہ مرزا قادیانی نے دیا۔ ہم نےان کتابوں کا مطالعہ کیا  کہیں بھی  لفظ انجیل نہیں ملتا۔ مرزا قادیانی  نےلکھا ہے

“پس جو سچ ظاہر ہو گیا ہے اسے پکڑ لے اور خود ساختہ باتوں کو چھوڑ دے “

اب قادیانی حضرات آپ کے لیئے خوشی کی بات ہے کے جو سچ تھا  وہ میں نے آپ کے سامنے  باقائدہ حوالے دے کر  ثابت  کر دیا   میں کہتا ہوں کہ مرزا صاحب نے جو یہ خود ساختہ باتیں کی ہیں کہ

” یہ صاحبِ انجیل تھا اس کا نام عیسیٰ صاحب تھا  یہ بنی اسرائیل سے تھا   “

یہ سب  خود ساختہ باتیں ہے   انھیں چھوڑ دیں مرزا صاحب نے خود کہا ہے۔ آپ کے بڑے آپ سے پوچھیں تو اُن سے کہہ دیں  کہ حضرت مسیح موعود نے خود لکھا ہے  کہ جو  سچ ہے اُسے  پکڑ لے اور جو جھوٹ ہے اُسے  پھینک دیں   قادیان کی  طرف   انشااللہ کوئی مسئلہ نہیں بنے گا۔ اگر آپ  نجات چاہتے ہیں تو قادیان کا بگڑا ہوا دین  چھوڑ دیں اور مکہ مدینہ کا   دین جو نبیِ پاک لے کر آے اُسے پکڑ لیں۔

اب ہم کتاب اکمال الدین کی طرف چلتے ہیں  اس کتاب کا   صفحہ نمبر ۵۱۹ پر کیا ذکر  ہے  آئیں   دیکھتے ہیں   یہ قصہ

”  بادشاہ اور درویش کا  قصہ “

ہے، یہ قصہ پورا عربی اور اُردو    دونوں  میں ہےاور کتاب کا نام   “اکمال الدین    اتمام  النعمت”  ہے۔ یہ  وہی قصہ ہے جو میں نے پہلے بیان کیا  کہ بادشاہ کس قسم کا تھا    مگر   اس  کتاب میں          شہ سُر خیوں میں بیان کیا گیا ہے  شہ سرخی ہے  “بدمست بادشاہ کی حالتِ زار  ”  اور آگے چلتے ہیں    اگلی شہ سرخی  ہے  ” بادشاہ کا  صاحبِ اولاد ہونا” یہ قصہ دونوں کتاب میں   انیس بیس الفاظ کے فرق کے ساتھ لگ بھگ ایک  ہی ہیں ۔

اس قصے کو میں  مختصراً  بیان  کرنا  چاہوں گا ”  اسی زمانے میں کسی بادشاہ  کے  یہاں  ایک بیٹا  پیدا ہوا  جبکہ  وہ اولادِ نرینہ سے مایوس  ہو چکا  تھا۔ یہ بچہ حسن و جمال وضیاء میں ایسا  تھا کہ انسانوں نے ایسا مولود نہیں دیکھا تھا ۔ بادشاہ بے انتہا خوش ہوا ۔قریب  تھا  کہ وہ خوشی کی زیادتی  سے  ہلاک ہو  جائے ۔ اُس کے  خیال میں یہ عطا ان بتوں کی ہے  جن کی وہ پرستش کرتا تھا ۔پس   لوگوں نے جو کچھ  ان کے گھروں   میں تھا  مندروں پر نچھاور  کر دیئے ۔ لوگوں کو ایک سال تک  خوشی  منانے کا حکم  دیا گیا ۔اس نے اپنے بیٹے کا نام یوزِ اصف رکھا ۔

تو بس ان دونوں کتابوں   کے مزید احوال میں آپ کو بتاتا رہوں گا ۔حقائق آپ کے سامنے ہیں۔ مرزا   صاحب نے  کتاب کا نام لیا  ہم نے  کتاب آپ   کے سامنے پیش کر دی اب   اس سے آگے   جا کر اس یوزِ اصف   نامی اس  شہزادے   کو مرزا  صاحب  نبی یا رسول بھی ثا بت کر دیں یا  اس پر  کوئی کتاب نازل ہو جائے  ہمیں کوئی    اعتراض  نہیں ہے  یہ  شخص  کچھ بھی  ہو عیسیٰؑ ابنِ مریم ؑ   کبھی نہیں ہو سکتا  کیونکہ قرآن     اور ہمارا مذہب  ہمیں  ایسا کرنے سے روکتے ہیں کہ اسے  عیسیٰ ابنِ  مریم  نہ کہو  اگر آپ    قرآن کی بات نہیں مانتے اور مرزا قادیانی کی بات مان کر   اسے عیسیٰ ابنِ مریم   مانتے ہیں  تو پھر    جو پیچھے  بادشاہ کا  ذکر ہے  جو بادشاہ کی حالت ہے  ایسے  شخص کو    نعوذ بااللہ ، نعوذ بااللہ،  نعوذ بااللہ   آپ حضرت مریم کا خاوند بنائیں گے تو پھر  آپ  سوچیں کہ یہ گستاخی کہاں تک جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان گستاخیوں سے بچا کر  رکھے ۔

قادیانی حضرات اس بات پر ضرور غور کیجیے   کہ یہ   دونوں کتابیں ” عین  الحٰیوۃ”  اور “اکمال الدین    اتمام  النعمت”     جن کے  بارے میں مرزا قادیانی نے   ہمیں  یوزِ اصف  کی تفصیل پڑھنے کو کہا ہم نے یہ کتابیں پڑھ لیں  اس میں  یوزِ اصف  کی جو تفصیل تھی وہ  یہی تھی    کہ یوزِ اصف   بادشاہ کا بیٹا  ہے اس لیئے یہ عیسیٰ ابنِ مریم نہیں ہو سکتا ۔

یہاں   میں آپ کو  مرزا  قادیانی کی کتاب    کا ایک اور حوالہ دینا چاہوں گا ۔”روحانی خزائن   جلد نمبر ۱۷” میں مرزا قادیانی نے یوزِ اصف کے باپ کا ذکر نہیں کیا  تو اس بات سے ہمیں پتا لگ   گیا  کہ مرزا  قادیانی کو سارے قصے کا پتا تھا   مگر  مرزا قادیانی  نے اپنی  اُمت   سے  دھوکا  دہی کی  ہے۔کتاب کے صفحہ  نمبر  ۱۰۰  اور ۱۰۱ ہے۔ صفحہ ۱۰۰  نمبر پر مرزا قادیانی لکھتا ہے

”  ایک نبی  یوزِ  اصف کے نام سے  مشہور تھا  اور اس کی کتاب کا نام  انجیل تھا “

“۔ اس بات کا ذکر میں پہلے ہی کر چُکا ہوں کہ انجیل کس کی کتاب ہے ۔مرزا  آگے پھرکہتا  ہے

” فی الواقعہ   صاحبِ قبر   حضرت  عیسیٰؑ ہی ہیں ” 

  اورلکھتا ہے

“جو یوزِ اصف   کے نام سے مشہور  ہوئے ۔”

اب دیکھتے ہیں کہ کون کون قادیانی اس  عقیدے پر قائم ہے اور جو اس عقیدے پر قائم ہو گا پھر خدا اس سے ضرور یہ پوچھے گا کہ تم نے  کیسے  ایسے  شخص کو   عیسیٰ ؑ  بنایا جس کا باپ موجودتھا ۔

اب  آگے صفحہ نمبر ۱۰۱  پر  مزید لکھتا ہے

” صاحب قبر ایک اسرائیلی شہزادہ  نبی  تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا ۔کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر  میں آ گیا تھا ۔”   

مرزا قادیانی نے  یہا ں  بھی یہ بات قادیانیوں سے چھپا  لی۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے    استغفراللہ ، توبہ استغفار۔۔۔

قادیانی حضرات ذرا سوچیے تو  سہی    یہاں اس نے لکھا ہے کہ کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر آ گیا  یہاں یہ کیوں نہیں لکھا  یوزِ اصف اپنے  باپ بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر آگیا تو ہمیں پتا چلتا مگر مرزا قادیانی نے باپ کا ذکر   کیوں نہیں کیا  کہ  یوزِ اصف بادشاہ کا  ہے اس لیئے کیونکہ پھر   مرزا قادیانی  کی جو اُمت ہے اُن کو پتا لگ جائے  گا کہ یہ عیسیٰؑ کی قبر ہو ہی نہیں  سکتی کیونکہ عیسیٰ ؑ تو   بن باپ کے پیدا ہوئے تھے ۔قادیانیوں کو یہ پتا لگ جائے گاکہ  مرزا قادیانی نے تو یہاں  جھوٹ لکھا ہے۔   تو  قادیانی حضرات  آپ تو کتابیں نہیں پڑھتے رضائی بھتیجا پڑھتا  ہے اور وہ اسی لیے  پڑھتا  ہےکہ قادیانی  حضرات کے ساتھ دھوکا  ہوا ہے اور یہ دھوکا  ان کے بڑوں نے کیا ہے۔

آگے شہزادے کے ساتھ کیا ہوا   ، کیسے ہوا تفصیل تو لمبی ہے مگر  ہمارے لیے اتنا  کافی  ہے  ہے کہ ہمیں اُس کا باپ مل گیا اور ہمیں پتا لگ گیا کہ وہ عیسیٰ ابنِ مریم نہیں ہے ۔تو آپ خود سوچیے گا  کہ مرزا قادیانی نے اتنا ذکر اپنی کتابوں میں کیا مگر کسی کتاب میں یہ نہیں  لکھا  کہ اس کا باپ کون تھا   کسی کتاب میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اس کی ماں کون تھی.   البتہ  قرآن  میں  عیسیٰؑ کا  اپنی والدہ  کے ساتھ ذکر ہے ۔       

مرزا کہتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پر میں آیا ہوں۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتےہیں کہ

(اور اہلِ کتاب میں کوئی ایسانہ ہوگا جواسکی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے گا اور قیامت کے دن وہ اُن پر گواہ ہو گا ۔ سورۃ نساُ کی آیت نمبر   ۱۵۸)

مرزا کی موت کوبھی کی سال ہو گے اہل کتاب میں  سےیہودی تو آج تک ایمان نہیں لاے بلکہ  ابھی بھی عیسی علیہ السلام کو گالیں نکالتے ہیں (نعوذ بااللہ) اوراپنے مسیحا دجال کا انطزار کر رے ہیں۔ اور اہل کتاب میں عیسایوں نے مرزا کوموت سے پہلےتو کیا آج تک مسیح موعودمانا ہی نہی بلکہ آج تک مرزا پر ایمان نہیں لاتے۔ مرزا کہتا ہے میں ہی مسیح موعود ہوں اگر یہ سچ ہوتا تو قرآن کے مطابق اہلِ کتاب میں ہرکوئی مرزا کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آتا۔ مرزا  کا  یہ دعوہ کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پر مرزا غلام احمد قادیانی تشریف لائے ہیں۔ اس سے مرزا کا دعوہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے اورمرزیوں کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے۔ اب یا تو عقیدہ بدل لیں یا پھر مرزی ، قادیانی حضرات خود کو مسلمان نہ کہیں۔ اکسر قادیانی مسلمانوں پر اعتراز کرتے ہیں کہ اپ ہمیں کافر کیوں کہتے ہو جبکہ ہم بھی قلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کے عقاید محمد رسول اللہ  کی تعلیمات اور قرآن  کے خلاف ہیں۔

ایمان مفصل تو یہ ہے

(کہ میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پراور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اس پر کہ اچھی اور بری تقدیر کا خالق اللہ ہے اور موت کے بعد اٹھائے جانے پر)

اب اگر کوئی قر ٓان کسی بھی ایت کا انکار کرے یا کسی بھی رسول کو حق نہ جانے یا ان کی شان میں گستاخی کرے تو وہ داٗرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے. مرزا نے تو نہ صرف عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ توہین امیز لکھا یہی نہی قراٰن کے خلاف بھی لکھا ۔ مرزا کا نبی ، مسیح معود ہونا یا خود کو نبی کے رستے پر سمجھنا تو دور کی بات، مرزا کو مسلمان سمجھنے کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب یہ فیصلہ آپ کے ذمہ ہے۔ مجھے اُمید ہے قادیانی حضرات میری یہ کاوش آپ کے ذہنوں سے بہت ساری  غلط فہمیاں دور کرنے کا باعث بنے گی ۔  انشااللہ

Scroll to Top